Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Tuesday, 6 March 2012

کیا انسان کا چاند پر قدم رکھنا حقیقت ہے


A Funny Thing Happened On The Way To The Moon. بیس جولائی 1969 کو امریکہ نے انسان کے چاند پر قدم رکھنے کا دعوہ کیا اور اسکا منظر دنیا بھر کے افراد کو ٹی وی سکرین کے ذریعے دکھایا گیا۔ ،امریکہ کا یہ دعوہ تھا کہ اسکا خلائی جھاز اپالو چاند پر اترا اور دو خلا بازوں نے چاند کی سطح پر اتر کر چہل قدمی کی، کچھ تصاویر بنائیں، امریکی جھنڈا چاند کی سر زمین پر گاڑا، چاند کی سطح سے پتھروں کے چند نمونے لیے اور زمین پر واپس لوٹ آئے،
خلائی اداروں کے لیے سامان بنانے والے کچھ اداروں کے ماہرین اور کچھ خلا باز اس واقعہ کی حقیقت سے انکار کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق چاند پر خلائی گاڑی کو اتار کر واپس زمین پر لوٹ آنے کا تناسب ایک سو میں سے صرف اعشاریہ صفر صفر ۱یک سات فیصد ہے۔


امریکی خلائی ادارے ناثا کی فراہم کی گئی تصاویر اور مناظر کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے بعد ماہرین طبیعات اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان تصاویر میں ایسی کئی خامیاں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ تصاویر چاند کی نہیں بلکہ زمین کے کسی حصے کی ہیں۔
مثلا چاند پر بنائی گئی تصاویر میں ستارے منظر سے غائب ہیں، حالانکہ ستاروں کا مشاہدہ ہم کائنات کی کسی بھی جگہ سے کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خلاباز نے جب چاند پر امریکی جھنڈا گاڑا تو وہ لہرانے لگا جب کہ چاند پر ہوا ہی موجود نہیں۔ ایک اور پہلو یہ کہ خلاباز کے چاند کی سطح پر قدم رکھنے سے اسکا جوتا چاند کی زمین میں دھنس گیا لیکن ایک بڑی چاند گاڑی جس کا وزن ٹنوں میں ہے،وہ چاند کی زمین میں نہیں دھنسی اور نہ اسکے گرنے سے کوئی دھماکہ ہوا۔
ایسے ہی کچھ حقائق کی بنیاد پر بین الاقوامی ماہرین کے ایک گروہ نے انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے واقع کو گزشتہ صدی کا سب سے بڑا دھوکہ قرار دیتے ہوے کہا کہ کسی بھی انسان نے چاند پر قدم رکھا ہی نہیں۔ اس دھوکے کے تمام حقائق کو بے نقاب کرنے کے لیے سرمایہ کاروں نے پانچ لاکھ ڈالر رقم فراہم کی ہے
سوال یہ ہے کہ امریکہ کو اس دھوکے سے کیا فائدہ حاصل ہوا اور کیا چاند پر انسان کا قدم رکھنا اتنا اہم تھا کہ اس کے لیے ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق جب امریکہ نے اپنے راکٹ کا چاند پر اترنے کا دعوہ کیا وہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اور روس نے 1956 میں اپنا ایک راکٹ خلا میں بھیج کر امریکہ پر اپنی برتری قائم کر لی تھی، اور امریکی دفاعی اداروں کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ روس خلا سے امریکہ پر ایٹمی حملہ کر سکتا ہے، ماہرین کے مطابق روس کی اس برتری کو توڑنے اور سرد جنگ جیتنے کے لیے کچھ ایسا کیا جانا ضروری ہے جو روسی اقدام سے بہت بڑھ کر ہو۔ چنانچہ امریکہ نے چاند پر انسانی قدم رکھنے کا جھوٹا مشن ترتیب دیا اور ایک راکٹ خلا میں چھوڑ دیا جو کچھ دن زمین کے گرد چکر لگاتا رہا اسی اثنا میں زمین پر مصنوعی سیٹ تیار کر کے خلا بازوں کے چاند پر قدم رکھنے کی تصاویر بنائیں اور اسے پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔
اس موضوع پر اور تحقیق آپ کو اس ویب سائٹ سے مل جائے گی۔ یہ تحقیق کرنے والے کہتے ہیں کہ اس موضوع پر مختلف رائے ہیں اس لیے ہم کوئ دعوہ نہیں کر رہے، مناظر اور حقائق کو دیکھنے کے بعد آپ سچ کا خود فیصلہ کریں۔ اس ویڈیو میں بہت سارے دلائل اور حقائق بیان کیے گئے ہیں۔


  • http://www.moonmovie.com
  • http://www.apfn.org/apfn/moon.htm
Moon Landing and American FlagMoon Landing and American Flag

Monday, 27 February 2012

Type Urdu Without Keyboard With Frontype

If you have to write your document, e-mail, blog or any thing in Urdu language and you having problem in typing Urdu from keyboard then don’t worry frontype on-screen urdu keyword is ready to solve your problem. It is available free for download. Frontype is also very attractive and nice because of its graphical look and you can also customize its size, transparency and keys for your ease.

Advantages of Frontype

  • No need to tear off your eyes from the screen
  • The current situation is always reflected, language, register, special symbols everything is spread before the eyes
  • Wide opportunities of individual tuning in – disposition, size, transparency, color, attaching to the chosen programs.
You can download Frontype from here.
Enjoy typing Urdu with this handy little tool.

اولاد کے لیے ماں کی محبت اور قربانی کا جذبہ


اعلٰی تعلیم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ایک نوجوان نے ملک کی ایک بڑی نامور کمپنی میں ادارتی منصب کیلئے درخواست جمع کرائی اور اُسے ابتدائی طور پر اِس منصب کیلئے موزوں اُمیدوار قرار دیکر فائنل انٹرویو کیلیئے تاریخ دیدی گئی۔
انٹرویو والے دن کمپنی کے مُدیر (کمپنی کا سربراہ) نے نوجوان کی پروفائل کو غور سے دیکھا اور پڑھا، نوجوان اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر آخری مرحلے تک نا صرف کامیاب ہوتا رہا تھا بلکہ اپنے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتا رہا تھا۔ اُسکی تعلیم کا یہ معیار آخر تک برقرار رہا تھا۔ مُدیر نے جوان سے پوچھا: تعلیم کے معاملے میں تمہیں کبھی کوئی مشکل یا کوئی ناکامی بھی پیش آئی، جسکا جواب نوجوان نے کبھی نہیں کہہ کر دیا۔
مُدیر نے پوچھا: یقینا یہ تمہارے والد ہونگے جنہوں نے تمہاری اِس مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت کیئے ہونگے؟

نوجوان نے کہا نہیں، میرے والد کا تو اُس وقت ہی انتقال ہو گیا تھا جب میں ابھی اپنی پہلی جماعت میں تھا۔ میرے تعلیم کے سارے اخراجات میری امی نے اُٹھائے ہیں۔
مُدیر نے پھر کہا؛ اچھا، تو پھر تمہاری امی کیا جاب کرتی ہیں ؟
نوجوان نے بتایا کہ میری امی لوگوں کے کپڑے دھوتی ہیں۔
مُدیر نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اپنے ہاتھ تو دِکھاؤ۔ نوجوان نے ہاتھ اُسے تھمائے جو کہ اِنتہائی نرم و نازک اور نفیس تھے، ہاتھوں کی نزاکت سے تو شائبہ تک نہیں ہوتا تھا کہ نوجوان نے تعلیم کے علاوہ کبھی کوئی اور کام بھی کیا ہوگا۔ مُدیر نے نوجوان سے پوچھا: کیا تم نے کپڑے دھونے میں کبھی اپنی امی کے ہاتھ بٹائے ہیں؟

نوجوان نے انکار میں جواب دیتے ہوئے کہا: نہیں، کبھی نہیں، میری امی ہمیشہ مجھے اپنا سبق یاد کرنے کو کہا کرتی تھیں، اُنکا کہنا تھا کہ کپڑے وہ خود دھو لیں گی۔ میں زیادہ سے زیادہ کُتب کا مطالعہ کرتا تھا، اور پھر میری امی جتنی تیزی اور پُھرتی سے کپڑے دھوتی تھیں میں تو اُتنی تیزی سے دھو بھی نہیں سکتا تھا۔
مُدیر نے نوجوان سے کہا؛ برخوردار، میری ایک شرط ہے کہ تم آج گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوؤ اور کل دوبارہ میرے پاس واپس آؤ تو میں طے کرونگا کہ تمہیں کام پر رکھا جائے کہ نہیں۔
نوجوان کو یہ شرط کُچھ عجیب تو ضرور لگی مگر کام ملنے کے اطمئنان اور خوشی نے اُسے جلد سے جلد گھر جانے پر مجبور کردیا۔ گھر جا کر نوجوان نے اپنی ماں کو سارا قصہ کہہ سُنایا اور ساتھ ہی اُسے جلدی سے ہاتھ دھلوانے کو کہا۔ آخر نوکری کا ملنا اس شرط سے جُڑا ہوا تھا۔
نوجوان کی ماں نے خوشی تو محسوس کی، مگر ساتھ ہی اُسے یہ شرط عجیب بھی لگ رہی تھی۔ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے اور خیالات آ رہے تھے کہ آخر نوکری کیلئے یہ کِس قسم کی شرط تھی؟ مگر اِس سب کے باوجود اُس نے اپنے ہاتھ بیٹے کی طرف بڑھا دیئے۔
نوجوان نے آہستگی سے ماں کے ہاتھ دھونا شروع کیئے، کرخت ہاتھ صاف بتا رہے تھے کہ اِنہوں نے بہت مشقت کی تھی۔ نوجوان کی آنکھو سے آنسو رواں ہو گئے۔ آج پہلی بار اُسے اپنی ماں کے ہاتھوں سے اُس طویل محنت کا ندازہ ہو رہا تھا جو اُس نے اپنےاِس بیٹے کی تعلیم اور بہتر مُستقبل کیلئے کی تھی۔
ہاتھ انتہائی کُھردے تو تھے ہی اور ساتھ ہی بہت سی گانٹھیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔ آج نوجوان کو پہلی بار محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کھردرا پن اگر اُسکی تعلیم کی قیمت چُکاتے چُکاتے ہوا تھا تو گانٹھیں اُسکی ڈگریوں کی قیمت کے طور پر پڑی تھیں۔ نوجوان ہاتھ دھونے سے فراغت پا کر خاموش سے اُٹھا اور ماں کے رکھے ہوئے باقی کپڑے دھونے لگ گیا۔ وہ رات اُس نے ماں کے ساتھ باتیں کرتے گُزاری، تھوڑے سے کپڑے دھونے سے اُسکا جسم تھکن سے شل ہو گیا تھا۔ سارا سارا دن بغیر کوئی شکوہ زبان پر لائے کپڑے دھونے والی ماں سے باتیں کرنا آج اُسے بہت اچھا لگ رہا تھا، دِل تھا کہ کسی طرح بھی باتوں سے بھر نہیں پا رہا تھا۔
دوسرے دِن اُٹھ کر نوجوان دوبارہ اُس کمپنی کے دفتر گیا، مُدیر نے اُسے اپنے کمرے میں ہی بُلا لیا۔ نوجوان کے چہرے سے اگر جگ راتے کی جھلک نُمایاں تھی تو آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کسی ندامت اور افسردگی کی کہانی سُنا رہی تھی۔

مُدیر نے نوجوان سے پوچھا، کل گھر جا کر تُم نے کیا کیا تھا؟

نوجوان نے مختصرا کہا کہ کل میں نے گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوئے تھے اور پھر اُس کے باقی بچے ہوئے کپڑے بھی دھوئے تھے۔ مُدیر نے کہا میں تمہارے محسوسات کو پوری سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سُننا چاہتا ہوں۔
نوجوان نے کہا: کل مُجھے لفظ قُربانی کے حقیقی معانی معلوم ہوئے۔ اگر میری امی اور اُسکی قُربانیاں ناں ہوتیں تو میں آج اِس تعلیمی مقام پر ہرگز فائز نہ ہوتا۔ دوسرا میں نے وہی کام کر کے اپنے اندر اُس سخت اور کٹھن محنت کی قدر و قیمت کا احساس پیدا کیا جو میری ماں کرتی رہی تھی اور مُجھے حقیقت میں اُسکی محنت اور مشقت کی قدر کا اندازہ ہوا۔ تیسرا مُجھے خاندان کی افادیت اور قدر کا علم ہوا۔ مُدیر نے نوجوان کو بتایا کہ وہ اپنی کمپنی میں موجود ادارتی منصب کیلئے ایک ایسے شخص کی تلاش تھا جو دوسروں کی مدد کا جذبہ رکھنے والا ہو، دوسرے کا اِحساس کرنے والا ہو اور صرف مال کا حصول ہی اُسکا مطمعِ نظر نہ ہو۔ نوجوان تمہیں مبارک ہو، میں تمہیں اِس منصب کیلئے منتخب کرتا ہوں۔
اور کہتے ہیں کہ نوجوان نے اُس کمپنی میں بہت محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ کام کیا، دوسروں کی محنت کی قدر اور احساس کرتا تھا، سب کو ساتھ لیکر چلنا اور سارے کام مِل جُل کر ایک فریق کی حیثیت سے انجام دینا اُسکا وطیرہ تھا، اور پِھر اُس کمپنی نے بھی بہت ترقی کی۔ یقینن ہمارے والدین ہمارے لیے اس قدر محنت ہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق اور موقع دے۔ آمین

فیس بک سے ایک اقتباس

ورڈ پریس ورژن تھری ایک جائزہ




wordpress-3-logo
بلاگنگ کا بہترین سافٹ وئر اور کروڑوں بلاگران کی پسند ورڈ پریس کا نیا ورژن تھری ریلیز ہو چکا ہے۔ جسے تھلونیس کا کوڈ نیم دیا گیا ہے۔ورڈ پریس تھری دراصل ورڈ پریس کی تیرھویں اہم ریلیز ہے۔ جس میں دو سو اٹھارہ ڈویلپرز کی بہترین کوششیں شامل ہیں۔ اس ریلیز کی بنیادی تبدیلیاں ایک خوبصورت تھیم ٹونٹی ٹین کی شمولیت ، جو کہ اب تک کے ورڈ پریس ورژنز میں شامل رہنے والی تھیم کبرک کی جگہ لے چکی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ ٹونٹی ٹین تھیم میں ورڈ پریس کے نئے فیچرزکی سپورٹ موجود ہونا ہے۔ ورڈ پریس میں نئے اے پی آئی کی بدولت ڈویلپرز باآسانی بلاگ کا بیک گراؤنڈ تبدیل کر سکتے ہیں، ھیڈر تصویر بدل سکتے ہیں، مینیو میں بغیر کوڈ تبدیل کیے تبدیلی لا سکتے ہیں، تحاریر کی نوعیت تبدیل کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑی تبدیلی ورڈ پریس ملٹی یوزر اور ورڈ پریس سنگل یوزر کی خصوصیات کو یکجا کر دینا ہے جس کی بدولت اب ایک ہی ورڈ پریس انسٹالیشن سے کئی بلاگ بنائے جا سکیں گے۔ جس کی حد غالبا ایک کروڑ مقرر کی گئی ہے اور میرے خیال سے باکمال اضافہ ہے۔


ورڈ پریس ڈویلپرز کا دعوی ہے کہ انہوں نے ایڈمن انٹرفیس کو پہلے سے آسان اور ہلکا پھلکا بنا دیا ہے۔ ایڈمن سیکشن کے تمام شعبوں میں تحریری مدد شامل کر دی گئی ہے۔ ورڈ پریس ڈویلپرز کے مطابق ایک ہزاردو سو سترہ بگز کو دور اور نئی جدتوں کو متعارف کرایا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانے ورژنز میں اتنی بڑی تعداد میں بگز موجود تھے اور ہمیں ان کا پتہ ہی نہیں تھا۔ ایک اور نیا فیچر ایک ہی کلک سے کئی پلگ انز کو بیک وقت اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کے دوران ورڈ پریس خود کار طریقے سے مرمت موڈ میں چلا جاتا ہے، یوں بلاگ صارفین کو بلاگ کھولنے پر یہ لکھا نظر آئے گا کہ وہ مرمت موڈ ختم ہونے کے کچھ دیر بعد بلاگ پر دوبارہ نظر ڈال سکیں گے۔
نئے ورژن میں کنٹیکٹ مینجر کے نام سے ایک نیا شعبہ شامل کیا گیا ہے جس میں آپ اپنے نئے کنٹیکٹس کا اضافہ کر سکیں گے اور موجود کنٹکٹس کی دیکھ بھال بھی کر سکیں گے۔
یہ تمام تبدیلیاں ورڈ پریس ڈاٹ کام پر بلاگ رکھنے والے بلاگ صارفین کئی دنوں سے ملاحظہ کر رہے تھے، جیسے ایڈمن انٹرفیس میں خوبصورتی اور جدت، کسٹم مینو کا اضافہ وغیرہ، لیکن ذاتی ہوسٹنگ پر ورڈ پریس چلانے والوں کو یہ تبدیلیاں انسٹالیشن اپ گریڈ کرنے کے بعد ہی نظر آئیں گی۔ ورڈ پریس تھری کا ایک اور خوبصورت فیچر ہر ایک پوسٹ کے لیے مختلف ھیڈر امیج کا انتخاب ہے جو کہ آپ کو اس پوسٹ کے لیے خاص ھیڈر امیج کی صورت میں اوپر نظر آرہا ہوگا۔ ابتداء سے لے کر اب تک ورڈ پریس میں جتنی ترقی ہو چکی ہے مجھے امید ہے مستقبل میں لوگ جملہ سی ایم ایس کو بھول جائیں گے ۔ ورڈ پریس کے لیے زائد مواد جیسے سانچہ جات، پلگ انز وغیرہ کی ایک بہت بڑی مقدار انٹرنیٹ پر دستیاب ہے اور اس میں روز بروز نئی ڈویلپ مینٹ ہو رہی ہے، زیادہ سے زیادہ کسٹمائزیشن کی دستیابی اور ورڈ پریس کا جملہ سے ہلکا پھلکا ہونا، نتیجتا کونٹینٹ مینجمینٹ سسٹم کے استعمال کرنے والے ورڈ پریس کو یقیننا جملہ پر فوقیت دیں گے۔ میرے خیال سے ورڈ پریس کی مدد سے آن لائن شاپنگ سمیت ایک اچھی خاصی ویب سائٹ بنائی جا سکتی ہے۔
ورڈ پریس پراجیکٹ آٹو میٹک کمپنی کے معروف اور ممتاز ڈویلپر میٹ ملنویگ کی تخلیق ہے۔ جو دیگر کئی بہترین پراجیکٹس جیسے بڈی پریس، پول ڈیڈی، ایکسمیٹ، انٹنس ڈیبیٹ، گراویٹر اور بی بی پریس کے خالق بھی ہیں
ورڈ پریس تھری کے متعلق معلوماتی ویڈیو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں اور ورڈ پریس ڈویلپمینٹ پراجیکٹ پرتازہ ترین جانکاری حاصل کرنے کے لیے یہاں جا سکتے ہیں۔


Introducing WordPress 3.0 “Thelonious”
Introducing WordPress 3.0 “Thelonious”

Twitter Delicious Facebook Digg Stumbleupon Favorites More

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Walgreens Printable Coupons